مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے
بشیر بدر
فانی بدایونی
سلیم اللہ
طلب، شکست، اطاعت، فرار، پیمانے
ہزار زیست کے عنواں، ہزار افسانے
آسانیوں سے پوچھ نہ منزل کا راستہ
اپنے سفر میں راہ کے پتھر تلاش کر
ذرے سے کائنات کی تفسیر پوچھ لے
قطرے کی وسعتوں میں سمندر تلاش کر
اقبال ساجد
اِقبال ساجِدؔ
مرحوم اِقبال ساجِدؔ بھی اُن شعراء میں شامل ہیں جن کی وجہ سے بہت سے افراد خود کو شاعر کہلوانے میں کامیاب ہُوئے مگر اِقبال ساجِدؔ نے خود بدنامیاں سمیٹیں،اِقبال ساجِدؔ اپنے کلام کو بہت کم داموں فروخت کر دیتا تھا، اپنے کلام فروخت کرنے پر جو اُن کو دُکھ ہوا وہ اِس غزل میں محسوس کیجئے گا
احمق پھپھوندوی
میں جیسا بچپن میں تھا
اسی طرح اب تک ہوں
کھلے باغ کو دیکھ دیکھ کر
بری طرح حیران
آس پاس مرے کیا ہوتا ہے
اس سب سے انجان
پھر یُوں ہوا کہ حسرتیں پیروں میں گِر پڑیں
پھر میں نے اِن کو روند کے قصّہ ختم کیا.
وسیم بریلوی
ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر
فراز
شوکت واسطی
شوکت واسطی کا پورا نام صلاح الدین شوکت واسطی تھا.وہ یکم اکتوبر 1922 کو ملتان پاکستان میں پیدا هوئے اور 3 ستمبر 2009 میں اس دار_فانی سے رحلت فرما گئے.انہوں نے گورڈن کالج راولپنڈی سے بی اے کے بعد ایڈورڈ کالج پشاور سے تاریخ میں ماسٹر کیا اور پھراسی شعبہ سے منسلک رہے اور ادب کی خدمت کرتے رہے.
مرحوم بہت ساری کتابوں کے مصنف تهے جن میں گیت نظم طویل نظم غزل تراجم سوانح اور تاریخ کی کئی کتابیں شائع هو چکی ہیں. ان کی کلیات بھی ”کلیاتِ شوکت واسطی ” کے نام سے چار جلدوں میں چھپ چکی ھے.
وہ جھوٹ بول رہا تھا بڑے سلیقے سے
میں اعتبار نہ کرتا تو اور کیا کرتا
باقی صدیقی
باقی صدیقی کی یہ مشہور غزل ہے جو خود ریڈیو پاکستان میں ملازمت کرتے تھے ۔انھوں یہ غزل لکھ کر خود اپنے ہاتھ سے مشہور غزل گائک اقبال بانو کو دی تھی ۔ اقبال بانو کی شہرت کی وجہ بھی یہ غزل بنی
فیض احمد فیض
منگلمری جیل 29جنوری 1954
احمد فراز
ندا فاضلی
کیفی اعظمی
کیفی اعظمی کی پہلی غزل جو 11 سال کی عمر میں لکھی گئی
ندا فاضلی
فلم: آہستہ آہستہ ١٩٨١
ظفر خان نیازی
راحت اندوری
ظفر خان نیازی
Mahmoud Darwish
In 1988, this poem, "Those Who Pass Between Fleeting Words", was angrily cited in the Knesset by Yitzhak Shamir. Written during the First Intifada, the poem includes the text: "Live anywhere but do not live among us... and do not die among us". It was interpreted by many Jewish Israelis as demanding that they leave the 1948 territories, although Darwish said that he meant the West Bank and Gaza. Adel Usta, a specialist on Darwish's poetry, said the poem had been misunderstood and mistranslated. Poet and translator Ammiel Alcalay wrote that "the hysterical overreaction to the poem simply serves as a remarkably accurate litmus test of the Israeli psyche ... (the poem) is an adamant refusal to accept the language of the occupation and the terms under which the land is defined."
تمادينا بالتفكير ونسينا بأن الأقدار مكتوبة
ہم نے سوچ میں حد پار کر دی اور بھول گئے کہ تقدیر لکھی جا چکی ہے۔
We went too far in thinking and forgot that destinies are written.
- Mahmoud Darwish
علامہ اقبال
( بال جبریل)
شہریار
پیرزادہ عاشق کیرانوی
اصل نام سراج الحسن عثمانی،تخلص عاشق، 1936ء میں محلہ پیرزادگان، کیرانہ، ضلع مظفر نگر میں آنکھ کھولی. والد اعجازالحسن زمیندار ۔ مدرسہء اسلامیہ کیرانہ کے قابل طلبا میں شمار ہوتا تھا ، لیکن چند وجوہات کے سبب فقط چوتھی تک تعلیم حاصل کر سکے ، پاکستان آکر سلسلہ ء حصول ِعلم کو انتہائی بلندیوں تک پہنچایا۔
Link: https://www.rekhta.org/ebooks/detail/masnavi-tuloo-e-sahar-peerzada-aashiq-keranwi-ebooks?lang=ur
عرفان صدیقی
2002 میں گجرات فساد کے پس منظر میں کہی گئی غزل
عدیم ہاشمی
ہے آفت بے عملی کی، گھڑی ہے آزمائش کی
اور اس پر بھی پڑی ہے تجھ کو دنیا میں ستائش کی
جو تونے کھایا ہے اور پہنا ہے بس ہے وہی تیرا
عمل پر دھیان دے غافل، پڑی ہے کیوں نمائش کی
ڈاکٹر پیرزادہ شرَفِ عالم
پیرزادہ عاشق کیرانوی
اصل نام سراج الحسن عثمانی،تخلص عاشق، 1936ء میں محلہ پیرزادگان، کیرانہ، ضلع مظفر نگر میں آنکھ کھولی. والد اعجازالحسن زمیندار ۔ مدرسہء اسلامیہ کیرانہ کے قابل طلبا میں شمار ہوتا تھا ، لیکن چند وجوہات کے سبب فقط چوتھی تک تعلیم حاصل کر سکے ، پاکستان آکر سلسلہ ء حصول ِعلم کو انتہائی بلندیوں تک پہنچایا۔
Link: https://cafeadab.com/sharf-e-alam/perzada-ashiq-keranvi-ka-taruuf/
احمد سلمان
سلیم کوثر
تو جو کرتا ہے خریدی ہوئی چڑیاں آزاد!!
یے تو کفارہ نہیں پیڑ کی بربادی کا!!
معلوم نہیں کون سی بستی کے مکین تھے
کچھ لوگ میری سوچ سے بھی بڑھ کر حسین تھے
محسن نقوی
ضیا جالندھری
اقبال
(Armaghan-e-Hijaz-19)
حفیظ جونپوری
مِرزا محمد رفیع سودؔا
خورشید طلب
حفیظ جونپوری
تلوک چند محروم
اطہر نفیس
ساحر لدھیانوی
(ہندوستان اور پاکستان کی جنگ کے پس منظر میں لکھی گئی اور معاہدہ تاشقند کی سالگرہ پر نشر کی گئی)
شاعر: آرزو عیسیٰ (تاجکستان)
گلوکار: میر مفتون (نے گایا ہے)۔ اُن سے پہلے بھی ایک گائیک (حسن حیدر) نے گایا تھا۔
اُردو ترجمہ: عبدالرزاق قادری
REFAAT ALAREER
Palestinian Poet from Gaza, Martyred in 2024
فیض احمد فیض
Charles Mackay
During a conversation with the Queen of England, then-Prime Minister Margaret Thatcher discussed adding some younger, fresher faces to her cabinet who would be more loyal to her new budget agenda. The Queen, offering her advice, mentioned that one might not want to stir things up in government or make enemies. Thatcher responded, “Unless one is comfortable having enemies.” Then she quoted the “No Enemy” poem written by Charles Mackay.
مولانا محمد علی شکیب شیرازی
منظر بھوپالی
اکبر الہ آبادی
I came across a book that said:
"Working out will make you feel weak, when it's actually making you stronger.
Learning new things will make you feel dumb, when it's actually making you smarter.
Investing in yourself will make you feel broke, when it's actually making you rich.
Facing your fears will make you feel terrified, when it's actually making you braver."
Never hold yourself back. Strive to be better tomorrow than you were today.
Thank yourself later.
مرزا محمد تقی ترقی
جون ایلیا
فیض احمد فیض
فیض کا ناکام عشق اور اس کا نتیجہ!
سیالکوٹ کا ایک مکان تھا۔ فیض صاحب جٹ تھے۔ سامنے ایک لڑکی رہتی تھی اور فیض اس کے عشق میں مبتلا تھے۔ لیکن ایک دن کالج سے جب واپس گئے تو وہ لڑکی وہاں نہیں تھی۔ آغا ناصر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بہت سال بعد جب فیض، فیض احمد فیض بن گئے تو واپس آئے تو وہ لڑکی آئی ہوئی تھی۔ وہ اپنا شوہر لے کر فیض صاحب سے ملوانے آئی۔ کہتے ہیں وہ نہایت خوبصورت آدمی تھا جو اس کا شوہر تھا۔ فیض کہتے ہیں کہ میں ان سے ملا۔ ـــــــــــــ واپس آ کر مجھ سے کہتی ہے "میرا شوہر کتنا خوبصورت ہے"۔ اس پر درج زیریں "رقیب" نظم لکھی گئی تھی:
انہیں صدیوں نہ بھولے گا زمانہ
یہاں جو حادثے کل ہو گئے ہیں
جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصرؔ
وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
ناصر کاظمی
فیض احمد فیض
جناح ہسپتال ،کراچی۔21اگست1953
علامہ اقبال کے اردو شاعرانہ کلام کی مکمل فہرست مندرجہ ذیل ہے:
علامہ اقبال
بال جبریل
معراج فیض آبادی
معراج فیض آبادی
بہادر شاہ ظفر
بہادر شاہ ظفر
آخری مغل تاجدار
( بال جبریل)
مجاھد آزادی مولانا سید کفایت علی کافی شہید مراد آبادی (رحمه الله)
پھانسی سے قبل مولانا سید کفایت علی کافی(رحمه الله) کے جسم پر گرم استری پھیری گئ ، زخم نمک سے بھر دیئے گئے اور ٢٢ رمضان المبارک کو مرادآباد کے ایک چوک میں مجمع عام کے سامنے تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ۔ اس وقت ان کی زبان پر یہ اشعار تھے۔
امجد حیدرآبادی
امجد بحثیت شاعر اونچا مقام رکھتے ہیں۔ بالخصوص امجد کی رباعیات قرآن و حدیث کی ترجمانی کرتی ہیں۔
علامہ اقبال
بال جبریل
فرزند میر عثمان علی خان نظام الملک آصف جاہ ہفتم - آخری نظام حیدرآباد دکن
فرزند میر عثمان علی خان نظام الملک آصف جاہ ہفتم - آخری نظام حیدرآباد دکن
عمران پرتاپ گڑھی
ہندوستانی شاعر اور رکن پارلیمنٹ
اقبالؔ
مسائل اس طرح سلجھا رہا تھا
کہ باتوں میں فقط الجھا رہا تھا
محبت اس کے بس کا روگ کب تھی
تماشہ شہر کو دکھلا رہا تھا
جون ایلیا
ابرار احمد کاشف
ابرار احمد کاشف
فَبِأَیِّ آلَاءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبَانِ اس آیت کے تناظر میں کہی گئی ایک نظم
ؔمرزا عظیم بیگ عظیم کا شعر ہے:
شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
اسی حوالے سے مروجہ شعر اس طرح مشہور ہے:
گرتے ہیں شاہ سوار ہی میدانِ جنگ میں
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے
سلیم کوثر
سلیم کوثر
ظفر علی خاں
عبدالمجید خاں مجید
تاجوانی ہے دلکشی اس میں
ہیچ بعدِ شباب ہے دُنیا
ہم سمجھتے ہیں خوب اے محروم
جائے صد پیچ و تاب ہے دُنیا
(تلوک چند محروم)
امیر مینائی
از: دیوانِ امیر مینائی معروف بہ صنم خانۂ عشق
امیر مینائی کی غزل آتش کی زمین میں۔
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے (آتش)
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے (امیر)