ناکام ہے تو کیا ہے، کُچھ کام پھر بھی کر جا
فانی بدایونی
ناکام ہے تو کیا ہے، کُچھ کام پھر بھی کر جا
مَردانہ وار جی اور مَردانہ وار مَر جا
دُنیا کے رنج و راحت کُچھ ہوں تِری بَلا سے
دُنیا کی ہر اَدا سے مُنہ پھیر کر گُزر جا
اِس بحرِ بے کراں میں ساحل کی جُستجو کیا
کشتی کی آرزُو کیا، ڈُوب اور پار کر جا
یہ دعویِ خبر ہی عصیاں بھی ہے سزا بھی
بے ہوش و بے خبر رہ، بے خوف و بے خطر جا
کَثرت میں دیکھتا جا تکرارِ حُسنِ وحدت
مجبُورِ یک نظر آ، مُمتازِ صد نظر جا
یہ میکدہ ہے پاسِ آدابِ میکدہ کر
اوّل خراب آ، اور آخر خراب تر جا
گھبرا گیا خِرد کی تاریکیوں سے فانیؔ
اے نُورِ عِشق دِل کی گہرائیوں میں بَھر جا
No comments:
Post a Comment