مِری منزلوں کو خبر کرو

مِری منزلوں کو خبر کرو

ساحل محمود؟

کبھی آسماں پہ بِٹھا دیا
تو کبھی نظر سے گرا دیا

غمِ عاشقی کی نوازشیں
ہمیں شعر کہنا سکھا دیا

مِری منزلوں کو خبر کرو
مجھے راستوں نے تھکا دیا

-------------------------------------------

کچھ جہدِ مسلسل سے تھکاوٹ نہیں لازم
انسان کو تھکا دیتا ہے سوچوں کا سفر بھی

No comments:

Post a Comment

Popular Posts