Quotes
– Al Mutanabbi
Ode to Sayf Al-Dawlah عَلى قَدرِ أَهلِ العَزمِ تَأتي العَزائِمُ
أبو الطيب المتنبي (303هـ – 354هـ / 915م – 965م)
This is one of the most magnificent and famous poems in the Arabic language, composed by the legendary poet Abu al-Tayyib al-Mutanabbi. It is an epic panegyric (praise poem) dedicated to the Emir Sayf al-Dawla in 954 AD, commemorating his legendary victory over the Byzantine army and the rebuilding of the strategic fortress of Al-Hadath.
Al-Mutanabbi is known for his immense pride, philosophical wisdom, and unparalleled command of Arabic imagery.
Link: https://www.chaldeannews.com/2024-content/2024/3/1/al-mutanabbi-the-would-be-prophet
بابا بلھے شاہ
اس کلام میں بابا بلھے شاہ ظاہری اور کتابی علم کے غرور کی نفی کرتے ہوئے یہ پیغام دیتے ہیں کہ انسان کی اصل نجات اور کامیابی صرف ایک ذاتِ واحد (اللہ) کی پہچان اور وحدانیت میں پوشیدہ ہے۔
سید عبداللہ شاہ قادری بُلھے شاہ
اجمل سراج
اجمل سراج کی یہ نظم اور اس کا آخری شعر ہر اس پاکستانی کی آواز ہے جو انصاف پر مبنی ریاست اور آزادی کا سچا خواب دیکھتا آیا ہے۔
یہ وہ شاعری ہے جسے سلیبس کا حصہ بننا چاہیے۔
گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ
قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا
علامہ اقبال
(ہسپانیہ کی سرزمین، بالخصوص قُرطُبہ میں لِکھّی گئی)
وادا لکبير، قرطبہ کا مشہور دريا جس کے قريب ہي مسجد قرطبہ واقع ہے -
( بال جبریل)
“Do not be absent for too long,
then come and ask about how I am,
details die with time and stories change.”
- Mahmoud Darwish
لا تُطِل الغياب،
ثم تأتي لتسأل عن حالي..
فالتفاصيل تموت مع الوقت، والحكايات تتغير.
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
امیر مینائی
کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے
امیر مینائی
محسنؔ بھوپالی
ہماری جان پہ دہرا عذاب ہے محسنؔ
کہ دیکھنا ہی نہیں ہم کو سوچنا بھی ہے
محسنؔ بھوپالی