بُلّھا کیہ جاناں مَیں کَون
بابا بلھے شاہ
تاریخی اعتبار سے یہ کلام اٹھارہویں صدی کے برصغیر میں سماجی، مذہبی، نسلی اور جغرافیائی تقسیم کو مسترد کر کے 'روحانی وحدت' اور 'آفاقی انسانیت' کا (Manifesto) ایک عظیم اور بے باک ترین اعلان نامہ سمجھا جاتا ہے۔
بابا بلھے شاہ
اس کلام میں بابا بلھے شاہ ظاہری اور کتابی علم کے غرور کی نفی کرتے ہوئے یہ پیغام دیتے ہیں کہ انسان کی اصل نجات اور کامیابی صرف ایک ذاتِ واحد (اللہ) کی پہچان اور وحدانیت میں پوشیدہ ہے۔
سید عبداللہ شاہ قادری بُلھے شاہ
اجمل سراج
اجمل سراج کی یہ نظم اور اس کا آخری شعر ہر اس پاکستانی کی آواز ہے جو انصاف پر مبنی ریاست اور آزادی کا سچا خواب دیکھتا آیا ہے۔
یہ وہ شاعری ہے جسے سلیبس کا حصہ بننا چاہیے۔