مقصد پاکستان نہیں تھا - اجمل سراج

  مقصد پاکستان نہیں تھا

اجمل سراج

اجمل سراج کی یہ نظم اور اس کا آخری شعر ہر اس پاکستانی کی آواز ہے جو انصاف پر مبنی ریاست اور آزادی کا سچا خواب دیکھتا آیا ہے۔

یہ وہ شاعری ہے جسے سلیبس کا حصہ بننا چاہیے۔


یاد کرو وہ وقت کہ جب ہم

آنکھوں میں کچھ خواب سجا کر

خالی ہاتھوں, ننگے پیروں

گھر سے چلے تھے

فکر و فہم کے باب میں جس دم

کوئی بھی ہیجان نہیں تھا

قول و عمل کی یکجائی کا

ذرا بھی جب فقدان نہیں تھا

اپنے ہدف اپنے مقصد سے

کوئی بھی انجان نہیں تھا

اندیشے خدشات نہیں تھے

اور معدوم امکان نہیں تھا

دنیا تو تج کر آئے تھے

دنیا کا ارمان نہیں تھا

آج بتا دینا آساں ہے

جو اتنا آسان نہیں تھا

پاکستان کا اک مقصد تھا

مقصد پاکستان نہیں تھا

No comments:

Post a Comment

Popular Posts