اِک الف پڑھو چُھٹکارا اے - بابا بلھے شاہ

 اِک الف پڑھو چُھٹکارا اے

بابا بلھے شاہ

اس کلام میں بابا بلھے شاہ ظاہری اور کتابی علم کے غرور کی نفی کرتے ہوئے یہ پیغام دیتے ہیں کہ انسان کی اصل نجات اور کامیابی صرف ایک ذاتِ واحد (اللہ) کی پہچان اور وحدانیت میں پوشیدہ ہے۔



پنجابی کلاماردو ترجمہ
اِک الف پڑھو چُھٹکارا اےبس ایک 'الف' (اللہ کی ذات) پڑھ لو، اسی میں نجات (چھٹکارا) ہے۔

اِک الفوں دو تِن چار ہوئے


پِھر لکّھ کروڑ ہزار ہوئے


پِھر اوتھوں باجھ شمار ہوئے


ہِک الف دا نُکتہ نیارا اے



اِک الف پڑھو چھٹکارا اے

ایک 'الف' سے ہی گنتی دو، تین اور چار تک پہنچی۔


پھر یہی گنتی ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں میں بدل گئی۔


پھر وہاں سے یہ بے شمار (ان گنت) ہو گئی۔


مگر حقیقت میں اس ایک 'الف' کا نکتہ ہی سب سے انوکھا اور نرالا ہے۔



بس ایک 'الف' پڑھ لو، اسی میں نجات ہے۔

کیوں پڑھنا ایں گَڈ کتاباں دی


سِر چانا ایں پَنڈ عذاباں دی


کیوں ہویاں شکل جلاداں دی


اَگے پینڈا مشکل بھارا اے



اِک الف پڑھو چھٹکارا اے

تو کتابوں کے ڈھیر (گٹھڑیاں) کیوں پڑھتا پھرتا ہے؟


اس طرح تو نے اپنے سر پر عذابوں کی گٹھڑی اٹھا لی ہے۔


(علم کے غرور میں) تیری شکل جلادوں جیسی کیوں ہو گئی ہے؟


آگے (آخرت کا) سفر بہت مشکل اور کٹھن ہے۔



بس ایک 'الف' پڑھ لو، اسی میں نجات ہے۔

بن حافظ حِفظ قرآن کریں


پڑھ پڑھ کے صاف زبان کریں


پر نعمت وچ دھیان کریں


من پِھردا جِیوں ہَلکارا اے



اِک الف پڑھو چُھٹکارا اے

تو حافظ بن کر قرآن مجید کو حفظ کرتا ہے۔


پڑھ پڑھ کر اپنی زبان اور تلفظ کو صاف کرتا ہے۔


لیکن تیرا سارا دھیان دنیاوی نعمتوں اور فائدوں کی طرف ہے۔


اور تیرا دل لالچ میں پاگل (ہلکارے کتے) کی طرح مارا مارا پھرتا ہے۔



بس ایک 'الف' پڑھ لو، اسی میں نجات ہے۔

بُلّھا بی بوڑھ دا بویا سی


اوہ بِرچھ وڈا جا ہویا سی


جد بِرچھ اوہ فانی ہویا سی


پھر رہ گیا بی اکارا اے



اِک الف پڑھو چُھٹکارا اے

اے بلھے شاہ! (شروع میں) برگد کا ایک بیج بویا گیا تھا۔


وہ بیج اگ کر ایک بہت بڑا درخت بن گیا۔


لیکن جب وہ درخت فانی ہوا (ختم ہو گیا)۔


تو آخر میں پھر وہی ایک بیج باقی رہ گیا۔ (یعنی ابتدا بھی اللہ ہے اور انتہا بھی اللہ)



بس ایک 'الف' پڑھ لو، اسی میں نجات ہے۔

No comments:

Post a Comment

Popular Posts