گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ
قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا
گاہے گاہے کی ملاقات ہی اچھی ہے امیرؔ
قدر کھو دیتا ہے ہر روز کا آنا جانا
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
امیر مینائی
کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے
امیر مینائی
امیر مینائی
از: دیوانِ امیر مینائی معروف بہ صنم خانۂ عشق
امیر مینائی کی غزل آتش کی زمین میں۔
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے (آتش)
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے (امیر)