علم کی انتہا ہے خاموشی
فردوس گیاوی
Gathering Life’s Pearls by the Ocean’s Edge.
All houses are dark until the mother wakes up. ~ Khalil Gibran.
From Essay "The Mother" (found in The Broken Wings):
"The mother is everything—she is our consolation in sorrow, our hope in misery, and our strength in weakness. She is the source of love, mercy, sympathy and forgiveness... The sun is the mother of the earth and gives its nourishment of heat; it never leaves the universe at night until it has put the earth to sleep... and the mother, the prototype of all existence, is the eternal spirit, full of beauty and love."
“Do not be absent for too long,
then come and ask about how I am,
details die with time and stories change.”
- Mahmoud Darwish
لا تُطِل الغياب،
ثم تأتي لتسأل عن حالي..
فالتفاصيل تموت مع الوقت، والحكايات تتغير.
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
امیر مینائی
کشتیاں سب کی کنارے پہ پہنچ جاتی ہیں
ناخدا جن کا نہیں ان کا خدا ہوتا ہے
امیر مینائی
محسنؔ بھوپالی
ہماری جان پہ دہرا عذاب ہے محسنؔ
کہ دیکھنا ہی نہیں ہم کو سوچنا بھی ہے
محسنؔ بھوپالی
سمندر چھوڑ آئے کوہ و دریا چھوڑ آئے ہیں
نئی دنیا کی خاطر ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
پہن کر ہم لباسِ اجنبیت کس طرف جائیں
کہ ہم اپنا بدن لاۓ ہیں چہرہ چھوڑ آئے ہیں۔
اشفاق حسین کی شاعری
ضیا محی الدین کی آواز میں
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
مے خانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
ہم مصلحت وقت کے قائل نہیں یارو
الزام جو دینا ہو، سر عام دیا جائے
محسن بھوپالی
تلقینِ اعتماد وہ فرما رہے ہیں آج
راہِ طلب میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
محسن بھوپالی
’’منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے‘‘ والا محسن بھوپالی کا قطعہ سردار عبدالرب نشتر نے اتنی بار اپنی تقریروں میں پڑھا کہ لوگ انہی کا سمجھنے لگے ۔ ( شاید اس لئے بھی کہ نشتر خود بھی شعر کہتے تھے ) سردار نشتر پاکستان کے پہلے وزیرِ مواصلات تھے۔ گورنر پنجاب اور مسلم لیگ کے صدر بھی رہے۔
“Be curious.
Read widely.
Try new things.
What people call intelligence just boils down to curiosity.”
― Aaron Swartz
ایک شام پھر یوں ہوا کہ ہواؤں کے ضد پر
بجھتے ہوئے اک چراغ نے جلنے کی ٹھان لی
Pablo Picasso
امجد اسلام امجد
محترم شاعر امجد اسلام امجد نے یہ نظم اپنے بیٹے علی ذیشان کے لیے لکھی تھی۔ دلوں کو چھو لینے والی شاعری میں ایک پوری نسل کے احساسات وجذبات کی ترجمانی کی گئی ہے۔
عزم بہزاد
کل دیکھا اک آدمی، اٹا سفر کی دھول میں
گم تھا اپنے آپ میں، جیسے خوشبو پھول میں
منیر نیازی
وہ کونسا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا
ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا
رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکا
ہم یادِ خدا کرتے ہیں، کر لے نہ خدا یاد
اکبر الہ آبادی