ایسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد
خمار بارہ بنکوی
Gathering Life’s Pearls by the Ocean’s Edge.
سمندر چھوڑ آئے کوہ و دریا چھوڑ آئے ہیں
نئی دنیا کی خاطر ایک دنیا چھوڑ آئے ہیں
پہن کر ہم لباسِ اجنبیت کس طرف جائیں
کہ ہم اپنا بدن لاۓ ہیں چہرہ چھوڑ آئے ہیں۔
اشفاق حسین کی شاعری
ضیا محی الدین کی آواز میں
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
مے خانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
ہم مصلحت وقت کے قائل نہیں یارو
الزام جو دینا ہو، سر عام دیا جائے
محسن بھوپالی
تلقینِ اعتماد وہ فرما رہے ہیں آج
راہِ طلب میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
نیرنگیٔ سیاست دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
محسن بھوپالی
’’منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے‘‘ والا محسن بھوپالی کا قطعہ سردار عبدالرب نشتر نے اتنی بار اپنی تقریروں میں پڑھا کہ لوگ انہی کا سمجھنے لگے ۔ ( شاید اس لئے بھی کہ نشتر خود بھی شعر کہتے تھے ) سردار نشتر پاکستان کے پہلے وزیرِ مواصلات تھے۔ گورنر پنجاب اور مسلم لیگ کے صدر بھی رہے۔
“Be curious.
Read widely.
Try new things.
What people call intelligence just boils down to curiosity.”
― Aaron Swartz
ایک شام پھر یوں ہوا کہ ہواؤں کے ضد پر
بجھتے ہوئے اک چراغ نے جلنے کی ٹھان لی
Pablo Picasso
امجد اسلام امجد
محترم شاعر امجد اسلام امجد نے یہ نظم اپنے بیٹے علی ذیشان کے لیے لکھی تھی۔ دلوں کو چھو لینے والی شاعری میں ایک پوری نسل کے احساسات وجذبات کی ترجمانی کی گئی ہے۔
عزم بہزاد
کل دیکھا اک آدمی، اٹا سفر کی دھول میں
گم تھا اپنے آپ میں، جیسے خوشبو پھول میں
منیر نیازی
وہ کونسا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا
ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا
رہتا ہے عبادت میں ہمیں موت کا کھٹکا
ہم یادِ خدا کرتے ہیں، کر لے نہ خدا یاد
اکبر الہ آبادی
محمد اقبال
تضمین بر شعرِ ملک قُمیؔ
فانی بدایونی