سفر طواف تھا، طے رہگزار کرتے رہے - شوکت واسطی

سفر طواف تھا، طے رہگزار کرتے رہے

شوکت واسطی


 شبِ فراق تھی، ہم ذکرِ یار کرتے رہے

خزاں سے اخذ نشاطِ بہار کرتے رہے

نکل کے پھول سے بو رم نہ کر سکے جیسے

ہم اپنے آپ سے ایسے فرار کرتے رہے

کبھی ثواب بھی سرزد ہُوا تو بے منشا

کبھی گناہ بھی بے اختیار کرتے رہے

صلیب لاتے رہے آپ اٹھا کے مقتل تک

جو کر سکے وہ تِرے جاں نثار کرتے رہے

جو بات بر سرِ منبر نہ کہہ سکا واعظ

تمہارے دوست وہ بالائے دار کرتے رہے

بڑے وثوق سے دنیا فریب دیتی رہی

بڑے خلوص سے ہم اعتبار کرتے رہے

افق کی طرح تھی منزل، گریز کرتی رہی

سفر طواف تھا، طے رہگزار کرتے رہے

تمام عمر تری آرزو رہی ہم کو

تمام عمر تِرا انتظار کرتے رہے

کہاں گئے وہ ندیمانِ خاص جو شوکتؔ 

ہمیشہ عہدِ وفا استوار کرتے رہے


شوکت واسطی


No comments:

Post a Comment

Popular Posts