آدھی عمر
عرفان ستار
یونہی بے یقیں، یونہی بے نشاں، مری آدھی عمر گزر گئی
کہیں ہو نہ جاؤں میں رائیگاں ، مری آدھی عمر گزر گئی
کبھی سائبان نہ تھا بہم، کبھی کہکشاں تھی قدم قدم
کبھی بے مکاں کبھی لا مکاں ، مری آدھی عمر گزر گئی
ترے وصل کی جو امید ہے، وہ قریب ہے کہ بعید ہے
مجھے کچھ خبر تو ہو جانِ جاں ، مری آدھی عمر گزر گئی
کبھی مجھ کو فکرِ معاش ہے، کبھی آپ اپنی تلاش ہے
کوئی گُر بتا مرے نقطہ داں ، مری آدھی عمر گزر گئی
کوئی طعنہ زن مری ذات پر، کوئی خندہ زن کسی بات پر
پئے دلنوازیء دوستاں ، مری آدھی عمر گزر گئی
اُسے پا لیا اُسے کھو دیا، کبھی ہنس لیا کبھی رو دیا
بڑی مختصر سی یہ داستاں ، مری آدھی عمر گزر گئی
ابھی وقت کچھ مرے پاس ہے، یہ خبر نہیں ہے قیاس ہے
کوئی کر گلہ مرے نقطہ داں ، مری آدھی عمر گزر گئی
کہاں کائنات میں گھر کروں، میں یہ سوچ لوں تو سفر کروں
اسی سوچ میں تھا کہ ناگہاں، میری آدھی عمر گزر گئی۔
No comments:
Post a Comment