وہ کونسا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا
ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا
وہ کونسا عقدہ ہے جو وا ہو نہیں سکتا
ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا
آسانیوں سے پوچھ نہ منزل کا راستہ
اپنے سفر میں راہ کے پتھر تلاش کر
ذرے سے کائنات کی تفسیر پوچھ لے
قطرے کی وسعتوں میں سمندر تلاش کر
میں جیسا بچپن میں تھا
اسی طرح اب تک ہوں
کھلے باغ کو دیکھ دیکھ کر
بری طرح حیران
آس پاس مرے کیا ہوتا ہے
اس سب سے انجان
پھر یُوں ہوا کہ حسرتیں پیروں میں گِر پڑیں
پھر میں نے اِن کو روند کے قصّہ ختم کیا.
فَلَمْ أَرَ كالأَيَّامِ لِلْمَرْءِ وَاعِظاً
وَلاَ كَصُروُفِ الدَّهْرِ لِلْمَرْءِ هَادِيَا
(نامعلوم)
برای مرد مثلِ روزگار پندآموزی بِه ندیدم،
و نه از حوادثِ دهر برای مرد رهنمای (بهتری).
میں نے مرد کے لیے زمانے جیسا خوب کوئی نصیحت آموز نہیں دیکھا،
اور نہ مرد کے لیے حوادثِ دہر سے بہتر کوئی رہنما دیکھا۔
ماخذ: رودکی و ادبیاتِ عرب: مجموعهٔ مقالهها، تاجالدین نورالدین مردانی (از تاجیکستان)
نامعلوم
بے عمل دل ہو تو جذبات سے کیا ہوتا ہے
دھرتی بنجر ہو تو برسات سے کیا ہوتا ہے
ہے عمل لازمی تکمیلِ تمنا کے لیے
ورنہ رنگین خیالات سے کیا ہوتا ہے