کب دعاؤں کا محتاج ہوتا ہے
نامعلوم
کب دعاؤں کا محتاج ہوتا ہے
عشق تو لا علاج ہوتا ہے
عشق کے اپنے اصول ہوتے ہیں
عشق کا اپنا رواج ہوتا ہے
عشق کے عین سے عبادت ہے
عشق روح کا اناج ہوتا ہے
عشق جسموں کو سر نہیں کرتا
عشق کا ذہنوں پر راج ہوتا ہے
عشق میں شاہ فقیر ہوتے ہیں
عشق کانٹوں کا تاج ہوتا ہے
عشق میں کوئی حد نہیں ہوتی
عشق میں نہ کل نہ آج ہوتا ہے
عشق خود ہی ظلم کرتا ہے
عشق خود ہی احتجاج ہوتا ہے
No comments:
Post a Comment