عِلموں بس کریں او یار - سید عبداللہ شاہ قادری بُلھے شاہ

عِلموں بس کریں او یار

سید عبداللہ شاہ قادری بُلھے شاہ


پنجابی کلاماردو ترجمہ

عِلموں بس کریں او یار


اِکّو الف تیرے درکار

اے دوست! ظاہری علوم (کتابوں) کا ڈھیر لگانا اب بس کر دے۔


تجھے تو حق تک پہنچنے کے لیے صرف ایک 'الف' (یعنی اللہ کی ذات کی پہچان) کی ضرورت ہے۔

عِلم نہ آوے وِچ شمار


اِکّو الف تیرے درکار


جاندی عُمر ، نہیں اِتبار


عِلموں بس کریں او یار

یہ ظاہری علوم اس قدر ہیں کہ انہیں گنا نہیں جا سکتا، ان کی کوئی حد نہیں۔


تجھے صرف ذاتِ واحد (الف) درکار ہے۔


عمر تیزی سے گزرتی جا رہی ہے اور سانسوں کا کوئی اعتبار (بھروسہ) نہیں۔


اس لیے اے دوست! ظاہری علم اکٹھا کرنا چھوڑ دے۔

پڑھ پڑھ، لِکھ لِکھ لاویں ڈھیر


ڈھیر کتاباں چار چوپھیر


گِردے چانن، وِچ انھیر


پُچّھو "راہ"؟ تے خبر نہ سار


عِلموں بس کریں او یار

تو پڑھ پڑھ کر اور لکھ لکھ کر اپنے چاروں طرف کتابوں کے ڈھیر لگا رہا ہے۔


تیرے اردگرد (ظاہری علم کا) اجالا ہے، 


لیکن تیرے اندر (باطن میں) مکمل اندھیرا ہے۔


اگر کوئی تجھ سے سیدھا راستہ (راہِ حق) پوچھ لے تو تجھے خود کوئی سدھ بدھ اور خبر نہیں ہے۔


اے دوست! اس علم کو اب بس کر دے۔

پڑھ پڑھ شیخ مشائخ ہویا


بھر بھر پیٹ نیندر بھر سویا


جاندی وار نین بھر رویا


ڈُبّا وِچ، اُرار نہ پار


عِلموں بس کریں او یار

تو پڑھ پڑھ کر خود کو بہت بڑا شیخ اور مشائخ (عالم و فاضل) سمجھنے لگا ہے۔


روزانہ پیٹ بھر کر کھاتا ہے اور جی بھر کر (غفلت کی) نیند سوتا ہے۔


لیکن جب دنیا سے جانے کا وقت آئے گا تو آنکھیں بھر بھر کر روئے گا۔


تو بیچ بھنور میں ایسا ڈوبا ہے کہ نہ اِس پار کا رہا اور نہ اُس پار کا۔


اے دوست! ظاہری علم کا دعویٰ کرنا چھوڑ دے۔

پڑھ پڑھ شیخ مشائخ کہاویں


اُلٹے مسلے گھروں بناویں


بے علماں نُوں لُٹ لُٹ کھاویں


جُھوٹھے سچّے کریں اِقرار


عِلموں بس کریں او یار

تو کتابیں پڑھ کر خود کو بڑا عالم کہلواتا ہے،


اور اپنی طرف سے (گھر سے ہی) الٹے سیدھے مسئلے اور فتاویٰ گھڑ لیتا ہے۔


جاہل اور معصوم عوام کو لوٹ لوٹ کر کھاتا ہے۔


اور لوگوں کے سامنے جھوٹے اور سچے دعوے کرتا پھرتا ہے۔


اے دوست! اس علم کو اب بس کر دے۔

پڑھ پڑھ نفل نماز گزاریں


اُچیاں بانگاں چانگھاں ماریں


مِنبر تے چڑھ وعظ پکاریں


کِیتا تینوں علم خوار


عِلموں بس کریں او یار

تو پڑھ کر خوب نفل اور نمازیں ادا کرتا ہے (دکھاوے کے لیے)۔


اونچی اونچی آواز میں اذانیں دیتا ہے اور چیختا چلاتا ہے۔


منبر پر چڑھ کر زور زور سے وعظ اور تقریریں کرتا ہے۔


لیکن تیری ریاکاری کے باعث اسی علم نے تجھے خوار (ذلیل) کر دیا ہے۔


اے دوست! اب بس کر دے۔

پڑھ پڑھ مُلّاں ہوئے قاضی


اللہ علماں باجھوں راضی


ہووے حرص دنوں دن تازی


تینوں کِیتا حرص خوار


عِلموں بس کریں او یار

ملاں پڑھ پڑھ کر قاضی اور مفتی بن گئے ہیں۔


حالانکہ اللہ تعالیٰ ظاہری علوم کے بغیر بھی (خلوصِ نیت اور عشق پر) راضی ہو جاتا ہے۔


تیرے اندر دنیاوی مال و دولت کی لالچ (حرص) دن بدن بڑھ رہی ہے۔


اور درحقیقت اسی حرص نے تجھے ذلیل کر کے رکھ دیا ہے۔


اے دوست! ظاہری علم بس کر دے۔

پڑھ پڑھ مسلے روز سناویں


کھانا شک شبے دا کھاویں


دسَّیں ہور، تے ہور کماویں


اندر کھوٹ ، باہر سچّیار


عِلموں بس کریں او یار

تو لوگوں کو روزانہ نئے نئے مسئلے سناتا ہے۔


لیکن خود شکوک و شبہات والا (حرام یا مشکوک) لقمہ کھاتا ہے۔


لوگوں کو کچھ اور سکھاتا ہے اور خود عمل کچھ اور کرتا ہے۔


تیرے اندر کھوٹ اور منافقت بھری ہے، جبکہ ظاہر میں تو سچا اور نیک بنتا ہے۔


اے دوست! ظاہری علم بس کر دے۔

پڑھ پڑھ علم نجوم وچارے


گِندا راساں بُرج ستارے


پڑھے عزیمتاں منتر جھاڑے


ابجد گِنے تعویذ شمار


عِلموں بس کریں او یار

تو ستاروں کا علم (علمِ نجوم) پڑھ کر اس پر غور کرتا پھرتا ہے۔


اور لوگوں کے برج، ستارے اور زائچے گنتا ہے۔


منتر پڑھ پڑھ کر لوگوں پر جھاڑ پھونک کرتا ہے۔


اور ابجد گن گن کر تعویذ بناتا پھرتا ہے۔


اے دوست! اس علم کو اب بس کر دے۔

عِلموں پئے قضیے ہور


اَکِّھیں والے انھے کور


پھڑے سادھ تے چھڈّے چور


دوہِیں جہانِیں ہویا خوار


عِلموں بس کریں او یار

ایسے علم کی وجہ سے معاشرے میں مزید جھگڑے اور فتنے پیدا ہو گئے ہیں۔


آنکھوں والے (عالم) لوگ حقیقت کی پہچان سے بالکل اندھے ہو گئے ہیں۔


وہ نیک اور شریف (سادھو) انسانوں پر فتوے لگا کر پکڑتے ہیں اور چوروں (ظالموں) کو چھوڑ دیتے ہیں۔


ایسے لوگ دونوں جہانوں میں رسوا اور خوار ہوتے ہیں۔


اے دوست! ظاہری علم بس کر دے۔

عِلموں پئے ہزاراں پَھستے


راہی اٹک رہے وچ رستے


ماریا ہجر ہوئے دِل خَستے


پیا وچھوڑے دا سر بھار


عِلموں بس کریں او یار

ان کتابی بحثوں سے ہزاروں قسم کے فساد اور الجھنیں پیدا ہو گئیں۔


راہِ حق کے مسافر منزل تک پہنچنے کے بجائے راستے ہی میں بھٹک کر اٹک گئے۔


خدا کی جدائی (ہجر) نے انہیں مار دیا اور ان کے دل خستہ (ٹوٹ) گئے۔


اور ان کے سر پر رب سے دوری اور وچھوڑے کا بھاری بوجھ پڑ گیا۔


اے دوست! اب بس کر دے۔

عِلموں میاں جی کہاویں


تمبا چک چک منڈی جاویں


دھیلا لَے کے چُھری چلاویں


نال قصائیاں بوہتا پیار


عِلموں بس کریں او یار

تو علم کے بل بوتے پر خود کو "میاں جی" (بڑا معزز) کہلواتا ہے۔


اور دنیاوی فائدے کے لیے تہمد اٹھا اٹھا کر منڈیوں کے چکر لگاتا ہے۔


ایک معمولی سے دھیلے (پیسے) کی خاطر تو چھری چلانے (یعنی دوسروں کا حق مارنے) سے دریغ نہیں کرتا۔


کیونکہ تیرا اٹھنا بیٹھنا اور یارانہ قصائیوں (ظالموں) کے ساتھ ہے۔


اے دوست! ظاہری علم بس کر دے۔

بوہتا علم عزازیل نے پڑھیا


جُھگْا جھاہا اوس دا سڑیا


گل وچ طوق لعنت دا پڑیا


آخر گیا اوہ بازی ہار


عِلموں بس کریں او یار

بہت زیادہ علم تو شیطان (عزازیل) نے بھی پڑھا تھا (وہ فرشتوں کا استاد تھا)۔


لیکن اس کے غرور کی وجہ سے اس کا سارا جھگا (مقام و مرتبہ اور ٹھکانہ) جل کر راکھ ہو گیا۔


اس کے گلے میں ہمیشہ کے لیے لعنت کا طوق پڑ گیا۔


اور آخرکار وہ تکبر کے باعث ساری بازی ہار گیا۔


اے دوست! اس علم کو اب بس کر دے۔

جد میں سبق عشق دا پڑھیا


دریا ویکھ وحدت دا وڑیا


گُھمن گھیراں دے وچ اڑیا


شاہ عنایت لایا پار


عِلموں بس کریں او یار

(بلھے شاہ کہتے ہیں کہ) جب میں نے (ظاہری علم چھوڑ کر) عشقِ حقیقی کا سبق پڑھا،


اور اللہ کی وحدانیت کے دریا کو دیکھ کر اس میں غوطہ لگا دیا،


تو راستے میں جب میں عشق کے بھنور میں پھنس گیا،


تو میرے مرشد 'شاہ عنایت' نے مجھے سہارا دے کر پار لگا دیا۔


اے دوست! اب ان ظاہری علوم کا ڈھیر لگانا چھوڑ دے اور ایک ذات سے لو لگا لے۔

No comments:

Post a Comment

Popular Posts