غزل- روشنی ہیں، سفر میں رہتے ہیں
محسن بھوپالی
روشنی ہیں، سفر میں رہتے ہیں
وقت کی رہ گُزر میں رہتے ہیں
شہر میں بُود و باش ہے اپنی
شب گُزاری کو گھر میں رہتے ہیں
دَر و دیوار سے نِکل کر لوگ
فکرِ دیوار و دَر میں رہتے ہیں
جو مِلے تھے ہمیں کتابوں میں
جانے وہ کِس نگر میں رہتے ہیں
لفظ کو جُھوٹ سچ کی دے کے سَند
خُود صفِ مُعتبر میں رہتے ہیں
بے پناہی کے خوف سے لرزاں
اپنے تَن کے شجر میں رہتے ہیں
یہی دادِ کَلام ہے محسنؔ!
ہم کِسی کی نظر میں رہتے ہیں
No comments:
Post a Comment