The war will end
The war will end.
The leaders will shake hands.
The old woman will keep waiting
for her martyred son.
That girl will wait for her beloved husband
and those children will wait
for their heroic father.
I don't know who sold our homeland
but I know who paid the price.
ستنتهي الحرب
ويتصافح القادة
وتبقى تلك العجوز، تنتظر ولدها الشهيد
وتلك الفتاة، تنتظر زوجها الحبيب
وأولئك الأطفال، ينتظرون والدهم البطل
لا أعلم من باع الوطن
ولكنني رأيتُ من دفع الثمن!
― محمود درويش
جنگ ختم ہوجائے گی،
لیڈر گرما گرمی سے ملیں گے،
اور رہ جائے گی وہ بوڑھی ماں جو اپنے شہید بیٹے کی منتظر ہوگی،
وہ نوجوان لڑکی جو اپنے محبوب کا انتظار کرے گی،
اور وہ بچے جو اپنے بہادر باپ کے منتظر ہوں گے،
میں نہیں جانتا کہ وطن کس نے بیچا،
لیکن میں نے دیکھا کہ قیمت کس نے ادا کی۔
― محمود درویش (فلسطینی شاعر)
No comments:
Post a Comment