ایجاد معانی
علامہ اقبال
(ادبیات فنون لطیفہ) (ضرب کلیم)
ہر چند کہ ایجادِ معانی ہے خدا داد
کوشش سے کہاں مردِ ہُنَر مند ہے آزاد!
خُونِ رگِ معمار کی گرمی سے ہے تعمیر
میخانۂ حافظؔ ہو کہ بُت خانۂ بہزادؔ
بے محنتِ پیہم کوئی جوہر نہیں کھُلتا
روشن شرَرِ تیشہ سے ہے خانۂ فرہاد!
No comments:
Post a Comment