علامہ اقبال
بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے .
ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کيا کہيے
علامہ اقبال
بیاں میں نکتہ توحید آ تو سکتا ہے .
ترے دماغ میں بت خانہ ہو تو کيا کہيے
مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا
یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا
ساقی فاروقی
زہرا نگاہ
مأخذ : کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 10.06.2015)
صابر علی سیوانی
غیر معروف شعراء کے مشہور اشعار صابر علی سیوانی | اردو محفل فورم
اب اس گھر کی آبادی مہمانوں پر ہے
کوئی آ جائے تو وقت گزر جاتا ہے
ایک فارسی دعا جو مغلیہ زمانے سے ہندوستان کے مسلمانوں میں مقبول تھی اور آج کل بھی کشمیر جیسے کُچھ علاقوں میں پڑھی جاتی ہے :
O Creator of every high and low of this world. Grant me six favours in my life from Your grace: True Belief (in God), Peace (everywhere) and a Healthy body. Knowledge, Amal (action based on knowledge) and Prosperity. |
اے ہر بلندی و پستی کے مالک! زندگی کی یہ چھ (۶) چیزیں عطا کر: ایمان، امان اور تندرستی، علم، عمل، آسودگی و فیاضی |
اے خالق ہر بلندی و پستی شش چیز عطا بکن ز ہستی ایمان وامان و تندرستی علم و عمل و فراخ دستی |
جمیلؔ مظہری
باقی صدیقی
باقی صدیقی کی یہ مشہور غزل ہے جو خود ریڈیو پاکستان میں ملازمت کرتے تھے ۔انھوں یہ غزل لکھ کر خود اپنے ہاتھ سے مشہور غزل گائک اقبال بانو کو دی تھی ۔ اقبال بانو کی شہرت کی وجہ بھی یہ غزل بنی۔
|
“If you are irritated by
every rub, how will your mirror be polished?” ― Rumi |
اگر تو ہر آنے والے زخم پہ غصّے سے بھر جائے، تو صاف و شفاف آئینہ کیسے بنے گا۔ ― رومی |
گر بہ
ہر زخمے تو پُر کینہ شوی پس کُجا بی صیقل آئینه شوی ― مولانا |
تا در طلب گوهر کانی کانی
تا در هوس لقمهٔ نانی نانی
این نکتهٔ رمز اگر بدانی دانی
هر چیز که در جستن آنی، آنی
عامر عثمانی
۱۲؍اپریل ۱۹۷۵ ء کو پونا کے مشاعرے میں یہ نظم پڑھنے کے دس منٹ بعد مولانا اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حضرت مولانا امین الرحمٰن عامر عثمانی (1920 تا 1975)
مولانا عامر عثمانی (1920-1975) اردو ادب کے ایک ممتاز شاعر، ادیب، محقق، اور صحافی تھے، جن کا تعلق دیوبندی مکتبہ فکر سے تھا۔ ان کی نظم "بغاوت" ان کی شاعری کی ایک اہم تخلیق ہے، جو ان کے ماہنامہ "تجلی" میں شائع ہوئی اور ان کے نظریاتی جوش، سماجی شعور، اور طنزیہ انداز کی عکاسی کرتی ہے۔ نظم "بغاوت" سماجی، سیاسی، اور مذہبی ظلم کے خلاف ایک علامتی احتجاج ہے۔ اس کا عنوان ہی اس کے موضوع کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ عامر عثمانی نے اس نظم میں رجعت پسند قوتوں کے خلاف جدوجہد کو ایک عظیم مقصد کے طور پر پیش کیا ہے۔ نظم میں "بغاوت" ایک ایسی آواز ہے جو سماجی تبدیلی، نظریاتی آزادی، اور انصاف کے لیے اٹھتی ہے۔
کوئی تدبیر کرو ، وقت کو روکو یارو
صُبح دیکھی ہی نہیں ، شام ہوئ جاتی ہے
( افتخار عارف)
https://www.facebook.com/share/p/1AQYFk8Rmc
The Simplest Productivity Chart of All Time - In Over Your Head
“Those who cannot remember the past are condemned to repeat it”
– George Santayana
|
As you start to walk on the way, the way appears.
Rumi |
در مسير كه قدم بگذارى مسير بر تو نمايان ميشود مولانا رومی |
|---|
|
Sell cleverness and buy bewilderment;
Cleverness is mere opinion, bewilderment is true seeing. |
عقل بیچ اور حیرانی خرید کیونکہ عقل، شک ہے اور حیرانی یقین ہے |
زیرکی
بفروش و حیرانی بخَر زیرکی
ظن است و حیرانی نَظَر |
Link: https://dailypakistan.com.pk/10-Mar-2016/345785
"Not all battles are fought for victory. Some are fought simply to tell the world that someone was there on the battle field,"
#RavishKumar
توسیعِ حیاتِ ملی نظام عالم کی تسخیر قویٰ کا نام ہے
علامہ اقبال
Yevgeny Yevtushenko
(translated from the Russian, published 1961)
واحد اعجاز میر
واصف علی واصفؔ
(1929ء -1993ء)