
Your remedy is within you - Hazrat Ali
ديوان علي بن أبي طالب
أبو الحسن علي بن أبي طالب الهاشمي القُرشي.
اشتهر بالفصاحة والحكمة، فينسب له الكثير من الأشعار والأقوال المأثورة. كما يُعدّ رمزاً للشجاعة والقوّة ويتّصف بالعدل والزُهد.
The Road Not Taken - Robert Frost
The Road Not Taken
Robert Frost (1874–1963).
Mountain Interval. 1920.
Say not the Struggle nought Availeth - ARTHUR HUGH CLOUGH
Say not the Struggle nought Availeth
Related Poem Content Details
All the world’s a stage - Shakespeare
All the world’s a stage (The Seven Ages of Man)
William Shakespeare
Music, When Soft Voices Die - Shelley
Music, When Soft Voices Die
Percy Bysshe Shelley
Commentary: "Music, When Soft Voices Die" is a major poem by , written in 1821 and first published in Posthumous Poems of Percy Bysshe Shelley in 1824 in London by John and Henry L. Hunt with a preface by Mary Shelley.[1] The poem is one of the most anthologised, influential, and well-known of Shelley's works.
A Morte Devagar (A Slow Death) - Martha Medeiros
A Morte Devagar (A Slow Death)
Martha Medeiros
NB - This poem was previously erroneously attributed as ‘You Start Dying Slowly by Pablo Neruda’.
Do Not Go Gentle Into That Good Night - Dylan Thomas
Do Not Go Gentle Into That Good Night
Dylan Thomas, 1914 - 1953
Dylan Thomas (1914–1953), a renowned Welsh poet, crafted the villanelle "Do Not Go Gentle Into That Good Night," widely regarded as one of his masterpieces. First published in 1951 in the journal Botteghe Oscure, it was later included in his 1952 collection In Country Sleep and Other Poems.
He wrote this poem during a period of personal turmoil, as his father, David John (D.J.) Thomas, was battling illness and nearing death. It was written during the post-World War II era, a time when themes of mortality and survival were particularly resonant due to the global devastation of the war. The poem’s impassioned tone reflects Thomas’s desire for his father to fight against death, as well as a broader meditation on human defiance in the face of mortality.
This powerful poem, urging resistance against death with the refrain "rage, rage against the dying of the light," resonates deeply with themes of defiance and perseverance. Its message aligns with the core theme of human survival in the film Interstellar (2014), where the character Professor Brand (played by Michael Caine) recites the poem, emphasizing humanity's unyielding struggle to endure against existential threats.
خود اپنی آنکھ کے شہتیر پر نظررکھیں - جون ایلیا
خود اپنی آنکھ کے شہتیر پر نظررکھیں
ہماری آنکھ سے تنکے نکالنے والے
جون ایلیا
کسی گناہ گار پر پہلا پتھر وہ اٹھائے جس نے کبھی خود گناہ نہیں کیا ہو
حضرت عیسیٰ علیہ السّلام
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہَوا دینے لگے - ثاقب لکھنوی
اس دین کی فطرت میں قدرت کے لچک دی ہے
اُتنا ہی یہ اُبھرے گا جتنا کہ دبا دیں گے
(صفی لکھنوی)
اس کو ناقدری¿ عالم کا صلہ کہتے ہیں
مر چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیا
(برج نرائن چکبست)
افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوف فساد خلق سے ناگفتہ رہ گئے
(آزاد انصاری)
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہَوا دینے لگے
(ثاقب لکھنوی)
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں
کسی کام میں جو نہ آ سکے مَیں وہ ایک مشتِ غبار ہوں
مضطر خیر آبادی
وہی ذبح بھی کرے ہے، وہی لے ثواب اُلٹا - مصحفی غلام ہمدانی
میں عجب یہ رسم دیکھی مجھے روز عید قرباں
وہی ذبح بھی کرے اور وہی لے ثواب الٹا
مصحفی غلام ہمدانی
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا - محمد یار خاں امیر
شکست و فتح میاں اتفاق ہے لیکن
مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا
محمد یار خاں امیر
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی - مولانا ظفر علی خان
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
مولانا ظفر علی خان
یہ شعر قرآن حکیم کی آیت کا ترجمہ ہے اور یہ منظوم تخلیقی ترجمہ مولانا ظفر علی خان نے کیا ہے۔ یہ شعر 1937ءمیں شائع ہونے والی مولانا ظفر علی خان کی کتاب ”بہارستان“ میں شامل ہے۔
اِنَّ اللّٰہَ لایُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِأنفُسِہِمْ وإذَا أرَادَ اللّٰہُ بَقَوْمٍ سوئًا فَلاَ مردَّ لَہٗ ومَالَہُمْ مِنْ دُوْنہٖ مِن وَال (رعد:۱۱)
ترجمہ: بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا؛ جب تک وہ خود اپنے آپ کو نہ بدل ڈالے اور جب اللہ کسی قوم کو برے دن دکھانے کا ارادہ فرماتا ہے تو پھر اُسے کوئی ٹال نہیں سکتا اور اللہ کے سوا ایسوں کا کوئی بھی مددگار نہیں ہوسکتا:
پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی - فکر یزدانی رامپوری
؎ وہ آئے بزم میں اتنا تو فکرؔ نے دیکھا
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
فکر یزدانی رامپوری
تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب - صادق حسین
تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
سید صادق حسین شاہ کاظمی ایڈووکیٹ
(ولادت:یکم اکتوبر 1898 ۔ وفات: 4 مئی 1989)
از شکر گڑھ ضلع سیالکوٹ کے مجموعۂ کلام '' برگِ سبز" مطبوعہ 1976 فیروز سنز سے انتخاب
نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا - اقبال
نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
محمد اقبال
ارمغان حجاز
گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو - اقبال
گرم ہو جاتا ہے جب محکوم قوموں کا لہو
محمد اقبال
(ملا زادہ ضیغم لولابی کشمیری کا بیاض) (ارمغان حجاز)
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو - مولانا ظفر علی خاں
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو
مولانا ظفر علی خاں
و ہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا - فیض احمد فیض
و ہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا
فیض احمد فیض
بے ہمیتے نیں جیڑے بہہ کے شکوہ کرن مقدراں دا - بابا نجمی
؎بے ہمیتے نیں جیڑے بہہ کے شکوہ کرن مقدراں دا
اگن والے اگ پیندے نیں سینہ پاڑ کے پتھراں دا
بابا نجمی
پست ہمت کرتے ہیں بیٹھ کر شکوہ نصیبوں کا
اگنے والے اگ جاتے ہیں سینہ چیر کر پتھروں کا
اگن والے اگ پیندے نیں سینہ پاڑ کے پتھراں دا
بابا نجمی
پست ہمت کرتے ہیں بیٹھ کر شکوہ نصیبوں کا
اگنے والے اگ جاتے ہیں سینہ چیر کر پتھروں کا
کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر - پیرزادہ عاشق کیرانوی
سرورِ علم ہے کیفِ شراب سے بہتر
کوئی رفیق نہیں ہے کتاب سے بہتر
پیرزادہ عاشق کیرانوی
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ - فیض احمد فیض
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
فیض احمد فیض
کہاں قاتل بدلتے ہیں، فقط چہرے بدلتے ہیں - حبیب جالبؔ
کہاں قاتل بدلتے ہیں، فقط چہرے بدلتے ہیں
حبیب جالبؔ
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں - فیض احمد فیض
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
فیض احمد فیض
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ - علامہ اقبال
فرزیں سے بھی پوشیدہ ہے شاطر کا ارادہ
علامہ اقبال
بالِ جبریل
نیند جب خوابوں سے پیاری ہو تو ایسے عہد میں - پروین شاکر
نیند جب خوابوں سے پیاری ہو تو ایسے عہد میں
پروین شاکر
جام میرا توبہ شکن، توبہ میری جام شکن - ریاضؔ خیرآبادی
جام میرا توبہ شکن، توبہ میری جام شکن
سامنے ڈھیر ہیں ٹوٹے ہوئے
پیمانوں کے
ریاضؔ خیرآبادی
قدم ہے راہِ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی؟ - مفتی محمد تقی عثمانی
قدم ہے راہِ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی؟
مفتی محمد تقی عثمانی
منزل بھی نہیں پائی، رستہ بھی نہیں بدلا - غلام محمد قاصر
منزل بھی نہیں پائی، رستہ بھی نہیں بدلا
غلام محمد قاصر
بے عمل دل ہو تو جذبات سے کیا ہوتا ہے - نامعلوم
بے عمل دل ہو تو جذبات سے کیا ہوتا ہے
نامعلوم
بے عمل دل ہو تو جذبات سے کیا ہوتا ہے
دھرتی بنجر ہو تو برسات سے کیا ہوتا ہے
ہے عمل لازمی تکمیلِ تمنا کے لیے
ورنہ رنگین خیالات سے کیا ہوتا ہے
Subscribe to:
Posts (Atom)
Popular Posts
-
فضائے بدر پیدا کر فرشتے تیری نصرت کو مولانا ظفر علی خاں
-
پیام عمل محمد فاروق دیوانہ مأخذ : اردو کی نئی کتاب
-
بے عمل دل ہو تو جذبات سے کیا ہوتا ہے نامعلوم بے عمل دل ہو تو جذبات سے کیا ہوتا ہے دھرتی بنجر ہو تو برسات سے کیا ہوتا ہے ہے عمل لازمی تکمیل ...
-
بیٹھ جاتا ہوں مٹی پہ اکثر ہریونش رائے بچن
-
کوہِ ندا مصطفیٰ زیدی
-
آہستہ چل زندگی گلزار
-
نظم، محنت کی برکات الطاف حسین حالی
-
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا مولانا ظفر علی خان یہ شعر قرآن حکیم کی آیت کا ترجمہ ہے اور ی...



