اک بندہ دا دل نہ ڈھاویں
| پنجابی کلام | اردو ترجمہ |
نہ کر بندیامیری میری نہ تیری نہ میری چاردناں دا میلہ دُنیا فیرمٹی دی ڈھیری | اے انسان! "میری میری" (یعنی غرور اور دنیا کی لالچ) نہ کر۔ یہ دنیا نہ ہمیشہ کے لیے تیری ہے اور نہ میری۔ یہ دنیا صرف چار دن کا میلہ (عارضی ٹھکانہ) ہے، اور پھر سب نے مٹی کی ڈھیری بن جانا ہے۔ |
مندر ڈھادےمسجد ڈھادے ڈھادےجو کجھ ڈھیندہ اک بندہ دا دل نہ ڈھاویں رب دلاں وچ ریندہ | مندر گرا دے، مسجد گرا دے، جو کچھ گر سکتا ہے وہ سب گرا دے۔ مگر کسی انسان کا دل کبھی نہ توڑنا، کیونکہ رب (خدا) دلوں میں بستا ہے۔ |
پڑھ پڑھ کتاباں علم دیاں توں نام رکھ لیا قاضی ہتھ وچ پھڑ کے تلوار نام رکھ لیا غازی مکے مدینے گھوم آیا تے نام رکھ لیا حاجی | علم کی کتابیں پڑھ پڑھ کر تو نے اپنا نام قاضی (عالم/منصف) رکھ لیا ہے۔ ہاتھ میں تلوار پکڑ کر تو نے اپنا نام غازی رکھ لیا ہے۔ مکے اور مدینے کا سفر (حج) کر کے تو نے اپنا نام حاجی رکھ لیا ہے۔ |
او بھلیا حاصل کی کیتا؟ جے توں رب نا کیتا راضی | اے بلھے شاہ! تو نے یہ سب کر کے آخر کیا حاصل کیا؟ اگر تو نے (اپنے خلوص اور محبت سے) اپنے رب کو ہی راضی نہیں کیا۔ |