میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں - مصطفی زیدی

غزل

مصطفی زیدی


 بچا گئیں کئی لوگوں کو متّحد لہریں

ڈبو دیا ہمیں پایابیٔ تمنّا نے

 مَیں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں 

تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے



ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق

Popular Posts