زندگی بے بندگی شرمندگی
رومی
مولانا رومی کی مثنویِ معنوی کا ایک عربی مصرع:
"وَاعْتَجِلْ فَالْوَقْتُ سَيْفٌ قَاطِعٌ"
جلدی کرو، کہ وقت ایک کاٹ ڈالنے والی تیغ ہے۔
مولانا رومی کی ایک عربی غزل کا مطلع:
يَا مَن لِواءُ عِشقِكَ لا زالَ عَالياً
قَد خابَ مَن يَكونُ مِن العِشقِ خالياً
(مولانا جلالالدین رومی)
اے وہ کہ تمہارا پرچمِ عشق ہنوز بلند ہے،
وہ شخص ناکام ہو گیا جو عشق سے خالی ہے۔
کئی ہندی اور ترک ایک زبان بولتے ہیں،
مگر کئی دو ترک ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں۔
پس محبت کی زبان کچھ اور ہے؛
ہمدلی ہمزبانی سے بہتر ہے۔
گفتگو، اشاروں اور تحریر سے ماورا،
دل کو اپنی ترجمانی کے لیے ہزاروں طریقے آتے ہیں۔
عشق را در دل نگه دار و بکوش
حسن او راه تو را گردد خروش
عشق کو دل میں رکھ اور کوشش کر؛
اس کی خوبصورتی تیرے راستہ کو خوشنما کر دے گی۔
Transliteration:
‘Ishq raa dar dil negah daar o bekoush
Husn-e oo raah-e to raa gardad khorosh
English Translation:
Keep love in your heart and strive;
Its beauty will make your path resound with joy.
Source: Divan-e Shams, Ghazal 598, Lines 7–8 (Foruzanfar edition).
امروز چو هر روز خرابیم خراب
مگشا در اندیشه و برگیر رباب
صدگونه نماز است و رکوعست و سجود
آنرا که جمال دوست باشد محراب
آج بھی ہر روز کی طرح ہم تباہ ہیں، بالکل تباہ؛
خیال کا دروازہ نہ کھول، رباب اٹھا لے۔
سو طرح کی نمازیں ہیں، رکوع اور سجدے؛
اس کے لیے جس کا محراب دوست کی خوبصورتی ہے۔
Let the beauty of what you love be what you do.
Today, like every day, we are ruined, utterly ruined;
Do not open the door to thought, but take up the rabab.
There are a hundred kinds of prayer, bowing, and prostration,
For the one whose mihrab is the beauty of the beloved.
ہر کُجا آبِ رواں سبزہ بود
ہر کُجا اشکِ رواں رحمت بود
باش چُوں دُولاب نالاں چشمِ تر
تا ز صِحنِ جانت بر روید خضِر
ترجمہ: (قاعدہ ہے کہ) جہاں آب رواں ہو وہاں سبزہ اُگتا ہے۔
(اسی طرح) جہاں آنسو بہتے ہوں وہاں (اللہ تعالٰی کی) رحمت (کا باغ لہلہانے لگتا) ہے۔
رہٹ کی طرح نالاں اور چشم تر رہو۔
تاکہ تمہارے صحنِ جان میں سبزہ پیدا ہو جائے۔
حافظ رحمۃ اللہ علیہ ؎
گریۂ شام و سحر شکر کہ ضائع نگشت
قطرۂ بارانِ ما گوہرِ یک دانہ شد
شام و سحر کا رونا شکر ہے کہ ضائع نہ ہوا؛
ہمارا باران کا قطرہ ایک نایاب موتی بن گیا۔
رحم خواہی، رحم کن بر اشک بار
رحم خواہی بر ضعیفان رحمت آر
ترجمہ:
اگر تُو (خدا یا دوسروں سے) رحم چاہتا ہے، تو اُن لوگوں پر رحم کر جو دکھی ہیں اور آنسو بہا رہے ہیں۔
اگر تُو رحم کا طلبگار ہے تو کمزوروں اور بے بسوں پر شفقت اور مہربانی کر۔
اگر تم رحم کے طلبگار ہو تو (پہلے خود ) ناداروں،ضعیفوں ،کمزوروں اور مانگنے والوں پر رحم کرو-
(مولانا جلال الدین رومیؒ)
If you seek tears, show mercy to the tearful;
If you seek mercy, bring mercy to the weak.
The wound is the place where the Light enters you.
Meaning: Our struggles and pain can lead to growth and enlightenment. The concept of “wound” symbolizes the painful experiences, struggles, and vulnerabilities that we face in life. Rumi reframes this idea by suggesting that these wounds are not merely sources of suffering; rather, they are essential openings through which deeper wisdom, love, and enlightenment can enter. In other words, when we are wounded—whether emotionally, mentally, or physically—these vulnerabilities can become gateways for personal growth and spiritual illumination. (Link)
Note:
Above is simplified translation. Original text is as following: (Reference)
Flies gather on every wound,So that no one sees the foulness of their own wound.Those flies are your evil thoughts and your love of possessions;Your wound is the darkness of your spiritual states.If the Pir lays a plaster on your wound,At once the pain and lamentation are stilled.So that he (the patient) fancies it is healed,But the healing ray of the plaster has shone upon that spot.Beware! Do not scornfully turn your head from the plaster, O you wounded in the back,But recognize that the healing comes from the ray, not from your own nature.
ست مهمانخانه این تن ای جوان
هر صباحی ضیف نو آید دوان
هین مگو کین مانند اندر گردنم
که هم اکنون باز پرد در عدم
هرچه آید از جهان غیبوش
در دلت ضیفست او را دار خوش
Translation:
This body, O youth, is a guest house:
every morning a new guest comes running (into it).
Beware, do not say, “This (guest) is a burden to me,”
for presently he will fly back into non-existence.
Whatsoever comes into thy heart from the invisible world
is your guest: entertain it well!
Other Translation:
The mind is a caravanserai
Each morning, new guests arrive . . .
All thoughts, happy or sad,
Are guests.
Welcome them!
هست مهمانخانه این تن ای جوان ** هر صباحی ضیف نو آید دوان - مثنوی مولانا
کلام خود را بلند کنید، نه صدا
این باران است که گل می روید نه رعد و برق
رومی
اپنی بات کو بلند کرو، آواز کو نہیں
بارش پھول اگاتی ہے، گرج کا شور نہیں
Raise your words, not your voice;
Rain makes flowers grow, not thunder’s clamor.
“There exists a field, beyond all notions of right and wrong. I will meet you there”
مولانا رومی فرماتے ہیں ؎
گفت پیغمبر کہ چوں کوبی درے
عاقبت زاں در برون آید سرے
پیغبر کا فرمان ہے کہ دروازہ کھٹکھٹاتے رہو۔ ایک دن دروازہ کھلے گا اور دروازہ کھولنے والے کا سر باہر آجائے گا(یعنی خدا تعالیٰ کی تجلی کا ظہور ہوجائے گا۔)
خواجہ عزیز الحسن مجذوبؔ ؎
بیٹھے گا چین سے اگر، کام کے کیا رہیں گے پر
گو نہ نکل سکے مگر، پنجرے میں پھڑپھڑائے جا
کھولیں وہ یا نہ کھولیں در، اس پہ ہو کیوں تیری نظر
تو تو بس اپنا کام کر یعنی صدا لگائے جا
ہم کیا ہماری سعی و مجاہدات کیا۔ پھر بھی ایک دن وہ ان ناقص اعمال کو ہی قبول فرمالیتے ہیں۔ لیکن بندہ کی نظر ہمہ وقت کام پر ہونی چاہیے،تاعمر آدابِِ غلامی بجا لانے پر ہونی چاہیے۔نتیجہ ان کی مرضی پر چھوڑ دیں۔