‏إظهار الرسائل ذات التسميات Bal-e-Jibreel. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات Bal-e-Jibreel. إظهار كافة الرسائل

مَسجدِ قُرطُبہ - علامہ اقبال

 مَسجدِقُرطُبہ

علامہ اقبال

(ہسپانیہ کی سرزمین، بالخصوص قُرطُبہ میں لِکھّی گئی)

وادا لکبير، قرطبہ کا مشہور دريا جس کے قريب ہي مسجد قرطبہ واقع ہے - 

( بال جبریل)

Link: https://aadhibaat.org/bal-e-jibril-124-masjid-e-qurtaba/

کلیات اقبال (اردو) - فہرست

 کلیات اقبال (اردو) - فہرست 

علامہ اقبال کے اردو شاعرانہ کلام کی مکمل فہرست مندرجہ ذیل ہے:

  1. Bang-e-Dra (با نگ درا) - The Call of the Marching Bell 1924
  2. Bal-e-Jibril (با ل جبر یل) Wings of Gabriel 1935
  3. Zarb-e-Kaleem (ضر ب کلیم) The Rod of Moses 1936
  4. Armaghan-e-Hijaz (ارمغانِ حجاز) Gift of the Hijaz 1938

 

غریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم - علامہ اقبال

 غریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم

علامہ اقبال
بال جبریل

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں - علامہ اقبال

 خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

علامہ اقبال

بال جبریل

یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا - علامہ اقبال

یہ ناداں گر گئے سجدوں میں جب وقت قیام آیا

علامہ اقبال

( بال جبریل)

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی - علامہ اقبال

 یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

علامہ اقبال

بال جبریل

لالۂ صحرائی - علامہ اقباؔل

 لالۂ صحرائی

علامہ اقباؔل

نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے - علامہ اقبال

 نہ تو زمیں کے لیے ہے نہ آسماں کے لیے

علامہ اقبال

( بال جبریل)

جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی - علامہ اقبال

 جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی

علامہ اقبال

( بال جبریل)

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے - علامہ اقبال

 نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے

علامہ اقبال

( بال جبریل)

دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے - علامہ اقبال

 دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے

علامہ اقبال

( بال جبریل)

روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے - علامہ اقبال

 روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے

علامہ اقبال

( بال جبریل)

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں - اقبال

 ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں

اقبال 

ساقی نامہ - اقبال

 ساقی نامہ

اقبال 

بال جبریل

’’ ساقی نامہ‘‘ کا کوئی متعین موضوع نہیں بلکہ یہ فکر اقبال کے عمومی و اساسی مضامین کا مجموعہ ہے اس میں پیام اقبال کے نمایاں عناصر کی تلخیص و تقطیر کی گئی، گویا یہ عطر مجموعہ ہے۔ چنانچہ مختلف اہم تخلیقات میں بکھرے ہوئے موضوعات اس نظم میں یک جو و یک جہت ہو گئے ہیں۔ یہ ایک نہایت خوشنما اور دبزی و نفیس قالین ہے جس میں متعدد رنگوں کے متنوع نقوش ایک دوسرے میں سمو کر بن دئیے گئے ہیں۔ عنوانات قائم کئے بغیر، خضر راہ کے ابواب۔۔۔ صحرا نوردی، زندگی، سلطنت، سرمایہ و محنت، دنیائے اسلام۔۔۔۔ ساقی نامہ کے اندر حل اور باہم و گر پیوست ہیں۔ ان کے علاوہ فطرت کی منظر نگاری، ذوق و شوق کے ارتعاشات اور طلوع اسلام کے ارتسامات بھی نظم کی سطح پر ابھرے ہوئے ہیں۔ لیکن اس تنوع کا ایک مرکز ہے، تصور خودی، جس کے گرد فطرت، عصر حاضر، مغرب و ملت، شخصی واردات اور حرکت و حیات کے نقطے اور زاویے جمع کر دئیے گئے ہیں، گویا خودی کے محور پر پوری کائنات فکر استوار کر دی گئی ہے۔ 

ساقی سے مکالمے کے ذریعے، اقبال مسلم دنیا کے حالات پر غور کرتے ہیں، اس کے زوال پر افسوس کرتے ہیں، اور روحانی و فکری احیاء پر زور دیتے ہیں۔ وہ خودی اور بے خودی (ایک اعلیٰ مقصد میں خود فراموشی) کے تصورات پر اور غیر فعال غور و فکر کے بجائے متحرک عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ 

شاہین - اقبال

 شاہین

اقبال 

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے - علامہ اقبال

 نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے

علامہ اقبال

( بال جبریل)

Popular Posts