‏إظهار الرسائل ذات التسميات Khudi. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات Khudi. إظهار كافة الرسائل

کلام اقبال اور قرآنی تلمیحات (منتخب مثالیں)

کلام اقبال اور قرآنی تلمیحات (منتخب مثالیں)


کلامِ اقبالؒ کے عمیق مطالعے سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ اقبالؒ کا اندازِ فکر و نظر قرآنی ہے۔اقبال کے نزدیک قرآن اللہ کی آخری نازل کردہ کتاب ہے جس میں ابدی حکمت سے معمور رہنما ئی کا بحر بیکراں موجزن ہے۔ اس لیے ان کے نزدیک قرآن تمام انسانوں کے لیے ہے۔ قرآن مجید فکرِ اقبال کا نمایاں ترین منبع و مآخذ ہے اور اقبال ؒ اپنی ارفع ترین علمی و فکری اور روحانی سطح پر قرآن مجید کے اسرار و رموز، اسرارِ تکوین ِ حیات اور حکمت و معرفت کی گہرائی بیان کرتے ہیں۔ کلام اقبال میں تلمیحات کا استعمال نہایت دل نشیں انداز میں کیا گیا ہے۔

غریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم - علامہ اقبال

 غریب و سادہ و رنگیِں ہے داستانِ حرم

علامہ اقبال
بال جبریل

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں - علامہ اقبال

 خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

علامہ اقبال

بال جبریل

یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی - علامہ اقبال

 یہ پیام دے گئی ہے مجھے باد صبح گاہی

علامہ اقبال

بال جبریل

ہندی مکتب - علامہ اقباؔل

 ہندی مکتب

علامہ اقباؔل

ضربِ کلیم

تخلیق - علامہ اقبالؒ

 تخلیق

علامہ اقبالؒ

ضربِ کلیم

نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے - علامہ اقبال

 نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے

علامہ اقبال

( بال جبریل)

علامہ اقبال کے منتخب اشعار

 علامہ اقبال کے منتخب  اشعار

روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے - علامہ اقبال

 روح ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے

علامہ اقبال

( بال جبریل)

ساقی نامہ - اقبال

 ساقی نامہ

اقبال 

بال جبریل

’’ ساقی نامہ‘‘ کا کوئی متعین موضوع نہیں بلکہ یہ فکر اقبال کے عمومی و اساسی مضامین کا مجموعہ ہے اس میں پیام اقبال کے نمایاں عناصر کی تلخیص و تقطیر کی گئی، گویا یہ عطر مجموعہ ہے۔ چنانچہ مختلف اہم تخلیقات میں بکھرے ہوئے موضوعات اس نظم میں یک جو و یک جہت ہو گئے ہیں۔ یہ ایک نہایت خوشنما اور دبزی و نفیس قالین ہے جس میں متعدد رنگوں کے متنوع نقوش ایک دوسرے میں سمو کر بن دئیے گئے ہیں۔ عنوانات قائم کئے بغیر، خضر راہ کے ابواب۔۔۔ صحرا نوردی، زندگی، سلطنت، سرمایہ و محنت، دنیائے اسلام۔۔۔۔ ساقی نامہ کے اندر حل اور باہم و گر پیوست ہیں۔ ان کے علاوہ فطرت کی منظر نگاری، ذوق و شوق کے ارتعاشات اور طلوع اسلام کے ارتسامات بھی نظم کی سطح پر ابھرے ہوئے ہیں۔ لیکن اس تنوع کا ایک مرکز ہے، تصور خودی، جس کے گرد فطرت، عصر حاضر، مغرب و ملت، شخصی واردات اور حرکت و حیات کے نقطے اور زاویے جمع کر دئیے گئے ہیں، گویا خودی کے محور پر پوری کائنات فکر استوار کر دی گئی ہے۔ 

ساقی سے مکالمے کے ذریعے، اقبال مسلم دنیا کے حالات پر غور کرتے ہیں، اس کے زوال پر افسوس کرتے ہیں، اور روحانی و فکری احیاء پر زور دیتے ہیں۔ وہ خودی اور بے خودی (ایک اعلیٰ مقصد میں خود فراموشی) کے تصورات پر اور غیر فعال غور و فکر کے بجائے متحرک عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔ 

طلوعِ اِسلام - علامہ اقبال

 طلوعِ اِسلام

علامہ اقبال

حصہ سوم سے 1908—( بانگ درا)

علاج - اقبال

 

اقبال

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں




خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں
ترا علاج نظر کے سوا کچھ اور نہیں

ہر اک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوق سفر کے سوا کچھ اور نہیں

گراں بہا ہے تو حفظ خودی سے ہے ورنہ
گہر میں آب گہر کے سوا کچھ اور نہیں

رگوں میں گردش خوں ہے اگر تو کیا حاصل
حیات سوز جگر کے سوا کچھ اور نہیں

عروس لالہ مناسب نہیں ہے مجھ سے حجاب
کہ میں نسیم سحر کے سوا کچھ اور نہیں

جسے کساد سمجھتے ہیں تاجران فرنگ
وہ شے متاع ہنر کے سوا کچھ اور نہیں

بڑا کریم ہے اقبال بے نوا لیکن
عطائے شعلہ شرر کے سوا کچھ اور نہیں

ہر ذرہ شہید کبریائی - علامہ اقبال

 ہر ذرہ شہید کبریائی

علامہ اقبال

بال جبریل

Popular Posts