‏إظهار الرسائل ذات التسميات Classical. إظهار كافة الرسائل
‏إظهار الرسائل ذات التسميات Classical. إظهار كافة الرسائل

Ode to Sayf Al-Dawlah عَلى قَدرِ أَهلِ العَزمِ تَأتي العَزائِمُ - Al-Mutanabbi

Ode to Sayf Al-Dawlah عَلى قَدرِ أَهلِ العَزمِ تَأتي العَزائِمُ

Al-Mutanabbi

أبو الطيب المتنبي (303هـ – 354هـ / 915م – 965م) 

This is one of the most magnificent and famous poems in the Arabic language, composed by the legendary poet Abu al-Tayyib al-Mutanabbi. It is an epic panegyric (praise poem) dedicated to the Emir Sayf al-Dawla in 954 AD, commemorating his legendary victory over the Byzantine army and the rebuilding of the strategic fortress of Al-Hadath.

Al-Mutanabbi is known for his immense pride, philosophical wisdom, and unparalleled command of Arabic imagery.

Link: https://www.chaldeannews.com/2024-content/2024/3/1/al-mutanabbi-the-would-be-prophet

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے - امیر مینائی​

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

امیر مینائی​

از: دیوانِ امیر مینائی معروف بہ صنم خانۂ عشق​

امیر مینائی کی غزل  آتش کی زمین میں۔

بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے (آتش)

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے (امیر)

عَیب - إمام الشافعي

 نَعِيْبُ زَمَانَنَا وَالْعَيْبُ فِينَا

وَمَا لِزَمَانِنَا عَیْبٌ سِوَانَا

(إمام الشافعي)


ہم اپنے زمانے کی عَیب گوئی کرتے ہیں، [حالانکہ] عَیب [خود] ہم میں ہے

اور ہمارے بجُز ہمارے زمانے میں کوئی عَیب نہیں ہے


مذمت - متنبی

 وإذا أتَتْكَ مَذَمّتي من نَاقِصٍ

فَهيَ الشّهادَةُ لي بأنّي كامِلُ​

متنبی


اگر تمہارے پاس کسی ناقص کی جانب سے میری مذمت آئے

تو یہ میرے حق میں کامل ہونے کی گواہی ہے.



زمانہ - متنبی

 وَمَا الدّهْرُ إلاّ مِنْ رُواةِ قَصائِدي

إذا قُلتُ شِعراً أصْبَحَ الدّهرُ مُنشِدَا


فَسَارَ بهِ مَنْ لا يَسيرُ مُشَمِّراً

وَغَنّى بهِ مَنْ لا يُغَنّي مُغَرِّدَا

متنبی


اور زمانہ تو محض میرے قصائد کا راوی ہے

جب میں شعر کہتا ہوں تو سارا زمانہ ہی گنگنانے لگتا ہے

اور جو نہیں بھی چلتا وہ بھی آستینیں چڑھا کر اسے لے کر چل پڑتا ہے

اور جو کبھی بھی گنگنایا نہ ہو وہ بھی اسے گنگناتے ہوئے چہچہانے لگتا ہے


متنبی


آدمی - زہیر بن سلمی

لسان الفتي نصف ونصف فؤادہ

فلم یبق الا صورۃ اللحم والدمٖ

زہیر بن سلمی


آدمی کی زبان اس کا نصف ہے اور نصف ہی اس کا دل ہے، 

سو گوشت پوست اور خون تو صرف صورت ہی صورت ہے۔


 زہیر بن ابی سلمیٰ عہد جاہلیت کا ممتازاور صاحب دیوان شاعر تھا۔


مُردہ شخص - المُتَنَبّي

مَنْ يَهُنْ يَسْهُلِ الهَوَانُ عَلَيهِ
ما لِجُرْحٍ بمَیِّتٍ إيلامُ
(المُتَنَبّي)

جو شخص ذلیل و خوار بن جائے، اُس پر ذلّتیں آسان ہو جاتی ہیں [اور وہ اُنہیں آسانی سے تحمّل کر لیتا ہے]؛
مُردہ شخص کو زخم سے کوئی درد نہیں پہنچتا۔
 

نوجوان - عنترۃ بن شداد

نوجوان 

عنترۃ بن شداد

 عنترۃ بن شداد بن قراد العبسی( 525 – 608 ء ) اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت کا مشہور شاعر جس کے اشعار شجاعت دلیری اور شہسواری میں مشہور تھے ، زمانہ جاہلیت کے مشہور سات معلقات میں سے اس کا بھی ایک معلقہ تھا، اسی طرح یہ عرب کے مشہور شہسواروں میں سے ایک تھا ، اس کے اشعار میں شجاعت و دلیری کے ساتھ ساتھ اپنی محبوبہ عبلۃ کا تذکرہ بھی ملتا ہے ۔

نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں - مضطر خیرآبادی

 نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں

مضطر خیرآبادی

آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے نام سے منسوب یہ اشعار ان کے نہیں بلکہ جاوید اختر کے دادا مضطر خیرآبادی کے ہیں۔

Popular Posts