دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت
فیض احمد فیض
فیض احمد فیض
منگلمری جیل 29جنوری 1954
فیض احمد فیض
فیض احمد فیض
فیض کا ناکام عشق اور اس کا نتیجہ!
سیالکوٹ کا ایک مکان تھا۔ فیض صاحب جٹ تھے۔ سامنے ایک لڑکی رہتی تھی اور فیض اس کے عشق میں مبتلا تھے۔ لیکن ایک دن کالج سے جب واپس گئے تو وہ لڑکی وہاں نہیں تھی۔ آغا ناصر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بہت سال بعد جب فیض، فیض احمد فیض بن گئے تو واپس آئے تو وہ لڑکی آئی ہوئی تھی۔ وہ اپنا شوہر لے کر فیض صاحب سے ملوانے آئی۔ کہتے ہیں وہ نہایت خوبصورت آدمی تھا جو اس کا شوہر تھا۔ فیض کہتے ہیں کہ میں ان سے ملا۔ ـــــــــــــ واپس آ کر مجھ سے کہتی ہے "میرا شوہر کتنا خوبصورت ہے"۔ اس پر درج زیریں "رقیب" نظم لکھی گئی تھی:
فیض احمد فیض
جناح ہسپتال ،کراچی۔21اگست1953
فیض احمد فیض
اگست 1952
فیض احمد فیض
یہ فیض احمد فیض کی ایک مشہور نظم ہے جو ان کے مجموعہ کلام "دشتِ صبا" (1952) میں شامل ہے۔ اس نظم کا پہلا مصرعہ "دشتِ تنہائی میں، اے جانِ جہاں، لرزاں ہیں" اپنی رومانوی گہرائی، جذباتی شدت، اور شاعرانہ خوبصورتی کی وجہ سے اردو ادب میں ایک علامتی مقام رکھتا ہے۔ یہ نظم فیض کی جیل کی زندگی کے دوران لکھی گئی، جب وہ راولپنڈی سازش کیس (1951-1955) کے الزام میں قید تھے۔
رسول حمزاتوف
ترجمہ کردہ نظم
یہ سارے اشعار آپ سب نے پڑھے یا سنے ہوں گے ۔ان اشعار نے ایک طرح سے ضرب المثل کی حیثیت پا لی ہے ۔ ان میں سے بہت سے اشعار آپ کو یاد بھی ہوں گے، لیکن اپنے ان پسندیدہ اشعار کو ایک جگہ دیکھنا یقیناً آپ کے لئے خوشی کا باعث ہوگا ۔
فیض احمد فیض
9مارچ۔1954 کو منٹگمری جیل میں کہی گئی غزل